Schooling System of Pakistan


اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں تعلیمی نظام کی پہلی خامی تو یہ ہے کے یکساں تعلیمی نظام نہیں ہے پھر ایک مسلہ یہ ہے کہ نصاب ہر اسکول اپنی مرضی سے چن سکتا ہے ان سے کسی قسم کی باز پرس نہیں کیجاتی تو چلیے پہلے جایزہ لیتے ہیں کہ کتابیں کیسے لگایی جاتی ہیں 

ایک طرف تو سرکاری اسکول ہیں جن میں سرکاری بک بورڈ کی کتابیں پڑھایی جاتی ہیں جو سستی ہوتی ہیں مگر صرف سستی ہوتی ہیں ان کا معیار کسی طرح بھی موجودہ دور کے لحاظ سے قابل قبول نہیں دس سال سے تکلیف ہی نہیں کی گیی کہ نظر سانی کر لیں باقی دنیا کیا پڑھ رہی ہے آج بھی ہم جماعت نہم میں کمپیوٹر سایئنس کی بک میں فلاپی ڈرائیو اور ونڈو ٩٨ہی پڑھا رہے ہیں ہم پاکستان اسٹڈیز میں بچوں کو بتا رہے ہیں کہ بینظر بھٹو بہت عظیم لیڈر تھیں ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ نواز شریف نے ملک کیلئے بہت کام کیا ہے ہم سایئنس میں بچوں کو وہ سب پڑھاتے ہیں جو بیس سال پہلے بھی پڑھا رہے تھے چلیں یہ تو ہوا سرکاری اسکول کا نصاب چونکہ زیادہ لوگ یہاں اپنے بچے نہیں پڑھانا چاھتے وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اساتذہ آنے کی  زحمت نہیں کرتے 

اب ذرا جایزہ لیتے ہیں پرائیویٹ اسکول کا پرائیویٹ اسکول دو طرح کہ ہیں ایک وہ جو برانڈز ہیں اور جنکی فیس بیس سے پچیس ہزار ماہانہ ہے اور یہ اسکول زیادہ تر با اثر افراد کی سرپرستی میں چلتے ہیں یہ ایسے ادارے ہیں جن پر کسی پاکستانی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا یہ کیا پڑھایں گے کیسے پڑھاہیں گے کتنا پڑھاییں گے صرف انکی مرضی ہے کتابیں کونسی ہوں گی انکا مقصد کیا ہو گا کویی نہیں پوچھ سکتا بچوں کی کیسی اخلاقی تربیت کریں گے انکی مرضی 

اب تیسری قسم ہے وہ اسکول جو ہر گلی محلے میں موجود ہیں اور ان میں طلبا کی کثیر تعداد موجود ہے انکے پاس اساتذہ بھی بہت شریف ہیں بیچارے وقت کے مارے ہر جگہ سے ناکام ہونے کے بعد وقت گزارنے کیلئے استاد بن جاتے ہیں تنخواہ کے نام پر ہدیہ دیا جاتا ہے جب تک کویی مناسب کام نہ مل جائے بیچارے اس فرض کو نبھاتے چلے جاتے ہیں یہ اسکول اپنا نصاب کیسے لگاتے ہیں ہان ایک بات اہم ہے ان اسکولوں میں کتاب اسکول کے منظور شدہ بک اسٹور سے لینی پڑتی ہے جو پبلشر انہیں زیادہ کمیشن دے اسکی کتاب فائنل اب خوبی یا خامی کا کویی سوال نہیں ہے ایسا ہی معاملہ یونیفارم کا بھی ہے ان اسکولوں کی فیس زیادہ نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ یہ ہر طرح سے کماتے ہیں ویسے انکا تعلیم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے 

والدین تمام اسکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے ہی بھیجتے ہیں لیکن ایسا کچھ خاص ہوتا نہیں یہ جو دوسری قسم والے ہیں یہ بچوں کو کسی حد تک انگلش بولنا سکھا دیتے ہیں اور یہ جو فیس لیتے ہیں وہ پوری ہو جاتی ہے ان تمام مراحل میں ابھی مزے کی بات تو میں نے بتایی نہیں یہ سال میں چار امتحان لیتے ہیں تا کہ فیس نہ رکے بچے رٹ کر امتحان دیتے ہیں کیوں کہ سمجھنے کا وقت نہیں ہے 

ان تمام اسکولوں میں بچے فیل نہیں هوتے سب اسی فیصد سے زیادہ نمبر لے کر پاس ہوتے ہیں اور پھر نیا سال نیی کتابیں نیی فیس کیا لگتا ہے یہ بچے کیا کریں گے یہ حکم مانیں گے جو کہا جائے گا وہ کریں گے مطلب غلام بنیں گے اور ہم بیوقوف بنتے رہیں  گے باقی باتیں اگلے بلاگ میں 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Pakistan Political Shows History

Upwork policy about under age (under 18)